کل دوستوں کے ساتھ باتیں ہورہی تھیں۔مختلف موضوعات سے ہوتے ہوتے ہم مذہب اور طالبان کی طرف آ نکلے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ میں بعد میں دیر تک سوچتا رہا کہ آخر ہم لوگ بحیثیت قوم کتنے گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ آیا اب ہم ایک قوم رہ بھی گئے ہیں یا نہیں۔
اگر مسلم اُمہ کی بات کی جائے تو وہ تو پہلے ہی مغرب کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں ملکوں ملکوں میں بٹ کر وطن پرستی میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اب کسی مسلمان ملک کے عوام کسی دوسرے مسلمان ملک کے عوام کو اپنا دینی بھائی نہیں سمجھتے۔ بلکہ عملی طور پر تو مشاہدہ یہ ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں کو تو مسلمان ملکوں میں پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے لیکن کسی مسلمان غیر ملکی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
بات یہیں تک محدود ہوتی تو بھی بہتری کی اُمید رکھی جا سکتی تھی۔ وطنیت پرستی کو فروغ دیتے دیتے بہت سے دوسرے معاملات نظر انداز ہوتے چلے گئے۔ پہلے آہستہ آہستہ لسانی، علاقائی، مذہبی اور قوم پرست طاقتوں کے ننھے ننھے پودے پیدا ہوئے ۔ نشوونما کے لئے آئیڈئیل ماحول اور آب و ہوا وافر مقدار میں دستیاب تھی، چنانچہ آج یہ پودے تناور درختوں کے جنگل بن چکے ہیں۔ ایسے جنگل جن پر کئی خونخوار درندوں کی زندگی کا انحصار ہے۔ ان جنگلوں میں بسنے والے لاکھوں معصوم چرندے ان چند خونخوار درندوں کی نہ ختم ہونے والی بھوک کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔
اپنے آس پاس دیکھتا ہوں تو اتنا کچھ نظر آتا ہے کہ لکھنے بیٹھوں تو صفحے کے صفحے کالے ہو جائیں لیکن یہ سوچ ذہن میں آنے لگتی ہے کہ ان مسائل پر تو ہر کوئی لکھ رہا ہے۔ پھر میں کیوں سر کھپاؤں۔ لیکن پرائیویٹ دوست کا کہنا ہے کہ لکھ ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا فرض ہے۔بات تو صحیح کہتا ہے اور انصاف پر مبنی بات مجھ سے رد نہیں کی جاتی۔
تازہ موضوع تو مذہبی معاملات پر ہی مشتمل ہے۔ ہمیں فرقوں کے نام پر مختلف مذاہب میں بکھیر دیا گیا ہے۔ اول غلطی تو انسان کی اپنی ہی ہوتی ہے کہ وہ عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود صحیح اور غلط میں سے غلط کا انتخاب کرتا ہے۔ کاش کہ تعلیم عام ہو سکے۔پاکستان میں اگر تعلیم عام ہو جائے تو یہاں پر موجود دو بڑے مذہبی گروہوںمیں پائی جانے والی شدت کم ہو سکتی ہے۔ میری مراد دیوبندی اور بریلوی مکاتبِ فکر سے ہے۔ بریلوی حضرات نے بدعتوں اور شرک پر مشتمل رسوم و رواج کو مذہب کا درجہ دے رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ مذہب کی خاطر تو جان دینے کووہ بھی شہادت سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب دیوبندی حضرات اپنے طرز ِ عمل سے انقلاب لانے کی بجائے طالبانی رویہ اختیار کرنے کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں اور جدید دور کے تقاضوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس تمام صورتحال میں پستا ہے تو وہ بے چارا عام مسلمان جو اپنی زندگی کو اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا چاہتا ہے لیکن اپنے ارد گرد پھیلی مذہبی اکثریت کے زیر ِ اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
ہمارے معاشرے کو چند پریشر گروپوں نے یرغما ل بنا رکھا ہے۔ سرحد میں تو یہ گروپ طالبان کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ کچھ خوش فہم لوگ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کو خطرہ صرف طالبان سے ہے۔ حالانکہ اُن کے آس پاس ایسے لوگ موجود ہیں جو مذہب کو اپنے ذاتی یا گروہی مفاد کے لئے استعمال کرنے میں طاق ہیں۔ اگر انہیں اقتدار مل رہا ہو تو انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مذہب کا حلیہ کس حد تک بگڑ رہا ہے۔ انہیں تو بس اپنی اقتدار کی بھوک مٹانی ہے چاہے جیسے بھی مٹے ۔ لیکن وہ مٹتی ہی نہیں ہے۔ یہاں دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ ایک تحریری اور ایک تصویری۔ دونوں مثالوں میں ذکر ہے دو ایسے لوگوں کا جو اپنے اپنے حلقہ اقتدار و اثر میں خدا بنے بیٹھے ہیں۔
مثال نمبر 1
میرے خاندان میں ایک بزرگ ہیں۔ میں نے لفظ بزرگ اُن کی عمر کی وجہ سے بیان کیا ہے یہ نہ سمجھ بیٹھئے گا کہ وہ بزرگی کے کسی اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہیں۔ بہرحال بزرگ صاحب ضیاء دور سے کونسلر چلے آ رہے ہیں۔ اورانہیں اپنے اہل محلہ پر مکمل اختیار و اقتدار حاصل ہے۔اپنے اثر و رسوخ کو مضبوطی و دوام بخشنے کے لئے ایک طاقتور پیر خانوادے کے مرید ِ خاص بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک نامی گرامی حاجی بھی ہیں۔ میرا خیال ہے تمہید اتنی ہی کافی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ دو تین سال پہلے ہمارے خاندان میں ایک فوتگی ہو گئی۔ میت کی تدفین کے موقع پر جب سب لوگ قبرستان میں آس پاس اپنے دوسرے رشتہ داروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کر رہے تھے تو حاجی صاحب کی نظر قریب ہی واقع ایک قبر پر پڑی جس پر ایک کچی سی جھگی بنا دی گئی تھی اور کچھ ٹوٹے پھوٹے برتن اور چٹائیاں وغیرہ پڑی تھیں۔ حاجی صاحب کو اچانک جلال آ گیا۔انہوں نے فوراً اپنے حواریوں کو جھگی اکھاڑنے کا حکم دیا جنہوں نے حکم کی تعمیل کرنے میں کچھ دیر نہ لگائی۔یہ کارروائی کر کے وہ سب دوبارہ فاتحہ خوانی اور تدفین میں مصروف ہو گئے کہ اچانک ساتھ والی گلی سے چالیس پچاس لوگوں کا ایک گروپ نمودار ہوا جن کے ہاتھوں میں پتھر اور اینٹیں تھیں۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ جنازے کے شرکاء نے قبروں کے کتبوں کے پیچھے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں۔ کچھ دیر بعد ان کی سمجھ میں آیا کہ ہوا کیا ہے۔ اب کے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنازے کے شرکاء نے پتھراؤ شروع کر دیا ۔ تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے جنازے والے جلد ہی قبرستان ِ جنگ پر غالب آ گئے۔غرض بات بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی۔ بعد میں معلوم ہونے والی تفصیلات سے پتہ چلا کہ ایک قبضہ گروپ نے ایک گڑھے میں موجود ایک گمنام قبر کو کسی بزرگ کی قبر قرار دے کر اس پر مزار بنانے کی تیاریاں ہی ابھی شروع کیں تھیں کہ یہ فوتگی ہو گئی اور جنازے کے موقع پر حاجی صاحب نے اپنی دھاک بٹھا دی۔ لیکن دوسرے گروپ نے بھی ہار نہ ماننے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اس نے علاقے کے ایم پی اے اور حاجی صاحب کے پیروں تک رسائی حاصل کر لی۔ پھر مذاکرات کا ایک دور چلا۔ کچھ لو اور کچھ دو کے عالمی و ازلی اصول کے تحت حاجی صاحب کو اس مزار کا سرپرست بنا دیا گیا۔ سرپرست بننے کی دیر تھی۔ اب جھگی دوبارہ آباد ہے اور وہی حاجی صاحب جو کل جھگی والوں کو شرابی، نشئی، چرسی اور کافر قرار دے رہے تھے آج ان کے جلو میں بیٹھ کر نامعلوم مجذوب بزرگ کے مزار پر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
یہ مثال ہمارے معاشرے میں سیاستدانوں سے لے کر مذہبی رہنماؤں سب پر صادق آتی ہے۔ رہ گئی دوسری مثال یعنی تصویری مثال تو وہ اگلی پوسٹ میں۔
فقط بلا۔
