Friday, July 17, 2009

ناشتہ، رشوت اور اوقات

آج جب میں جمعے کی وجہ سے دیر سے جاگا اور بجلی نہ ہونےکی وجہ سے دوسرے کمرے میں گیا تو سارے گھر والے کھڑکیوں سے چپکے کھڑے باہر دیکھ رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج ہماری گلی میں سابق فرزندِ راولپنڈی حال فرزندِ پاکستان اور مستقبل کے فرزندِ نامعلوم جناب شیخ رشید صاحب نے اپنے پچاس ساٹھ چمچوں کڑچھوں کے ساتھ قدم رنجہ فرمایا ہوا ہے۔موصوف اپنی مشہورِ زمانہ ماہانہ پچاس لاکھ روپے کا پٹرول کھانے والی لینڈ روور پر تشریف لائے تھے۔ پہلے تو خیال آیا کہ الیکشن مہم شروع کر ہی دی آخر شیخ صاحب نے۔ مگر پتہ چلا کہ سامنے والوں نے شیخ صاحب کو ناشتے پر مدعو کیا ہے۔ دیکھنے میں تو اتنے کھاتے پیتے نہیں لگتے مگر اس ناشتے سے اندازہ ہوا کہ اندر سے ہیں کھاتے پیتے ہی۔ امی نے مجھے کہاکہ تو بھی جا تیری بھی دعوت آئی ہوئی ہے ۔ میں نے بیزار نظروں سے امی کو دیکھا تو امی نے پوچھا ناشتے میں کیا بناؤں۔
ابھی میں نے اخبار کا پہلا صفحہ ہی پڑھا تھا کہ باہر ایک بار پھر ہٹو بچو کا شورمچ گیا۔ اب کہ پتہ چلا کہ شیخ صاحب واپس جا رہے ہیں۔ عجیب بات ہے شیخ صاحب نے پچاس ساٹھ آدمیوں سمیت پندرہ منٹ میں ناشتہ کر بھی لیا اور واپس بھی چلے گئے۔ خیر اسی حیرت کے عالم میں ہم نے بھی ناشتہ کیا۔ نہا دھو کے جب فارغ ہوا تو دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر جا کے دیکھا تو سامنے والوں کی بچی ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈونگا پکڑے کھڑی تھی۔ میں نے واپس مڑتے ہوئے آواز لگائی ، لو بھئی آ گیا ناشتہ۔ بھابھی بچی کو لے کر کچن میں چلی گئیں اور اس سے تفتیش کرنے لگیں۔ بچی معصوم تھی۔بےچاری کو کیا پتہ کہ سیاست کس بلا کا نام ہے اور گھر کی باتیں باہر نہیں نکالتے۔ اس نے چٹخارے لے لے کر بتایا کہ نہاری، پائے اور لسی کا ناشتہ بنایا تھا ہم لوگوں نے۔ ہمارے ابو کا کوئی کام پھنسا ہوا ہے تودادا جی نے کہا تھا کہ شیخ صاحب کی دعوت کر لو تو ہم نے کر دی۔
اور میں تب سے سوچ رہاہوں کہ شیخ صاحب جو خود کو پہلے فرزندِ راولپنڈی اور اب فرزندِ پاکستان سمجھتے ہیں، اور خود کو ایک عالمی و بین الاقوامی سیاستدان اور مدبر گردانتے ہیں ،کیا ان کی یہی اوقات رہ گئی ہے کہ چپڑقناتی قسم کے ناجائز کاموں کے لئے ناشتوں کی رشوتوں سے ہی رام ہو جاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کی طرح جن کو لوگ ہینڈ پمپ لگوانے کی درخواستیں پیش کرتے ہیں، شیخ صاحب کا لیول بھی گراس روٹ لیول پر آ گیا ہے۔ اب شیخ صاحب شاید یہ بات سمجھ میں آ گئی ہو کہ ان کے مرشدِ جنگجو نے ان سمیت آسمانِ سیاست کے نجانے کتنے ستاروں کو گراس روٹ لیول پرپہنچا دیا ہے لیکن یہ بات شاید ابھی بھی سمجھ نہیں آئی کہ گھاس پھونس میں گری ہوئی کوئی سوئی کبھی دوبارہ ملا نہیں کرتی۔