<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-7726280979897714116</id><updated>2012-02-16T19:14:25.992-08:00</updated><category term='Army'/><category term='Billu'/><category term='Breakfast'/><category term='Sheikh Rasheed'/><category term='Naseebo'/><category term='Friday'/><category term='Nargis'/><category term='Jang'/><category term='Prayer'/><title type='text'>بلوبلا</title><subtitle type='html'>بلو اور بلے کا بلبلاتا بلاگ</subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://billubilla.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><author><name>بلو بلا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07423259212786086642</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://4.bp.blogspot.com/_DllTBzdZmGg/SkN10PXqsLI/AAAAAAAAAAM/JPz48P6xtAQ/S220/3c5ba8ce012f2374c8a0c5e63586fed4.png'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>3</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-7726280979897714116.post-3769337859871642678</id><published>2009-07-17T04:57:00.000-07:00</published><updated>2009-07-17T04:59:17.747-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Friday'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Sheikh Rasheed'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Prayer'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Breakfast'/><title type='text'>ناشتہ، رشوت اور اوقات</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right; font-family: arial;"&gt;آج جب میں جمعے کی وجہ سے دیر سے جاگا اور بجلی نہ ہونےکی وجہ سے دوسرے کمرے میں گیا تو سارے گھر والے کھڑکیوں سے چپکے کھڑے باہر دیکھ رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج ہماری گلی میں سابق فرزندِ راولپنڈی حال فرزندِ پاکستان اور مستقبل کے فرزندِ نامعلوم جناب شیخ رشید صاحب نے اپنے پچاس ساٹھ چمچوں کڑچھوں کے ساتھ قدم رنجہ فرمایا ہوا ہے۔موصوف اپنی مشہورِ زمانہ ماہانہ پچاس لاکھ روپے کا پٹرول کھانے والی لینڈ روور پر تشریف لائے تھے۔ پہلے تو خیال آیا کہ الیکشن مہم شروع کر ہی دی آخر شیخ صاحب نے۔ مگر پتہ چلا کہ سامنے والوں نے شیخ صاحب کو ناشتے پر مدعو کیا ہے۔ دیکھنے میں تو اتنے کھاتے پیتے نہیں لگتے مگر اس ناشتے سے اندازہ ہوا کہ اندر سے ہیں کھاتے پیتے ہی۔ امی نے مجھے کہاکہ تو بھی جا تیری بھی دعوت آئی ہوئی ہے ۔ میں نے بیزار نظروں سے امی کو دیکھا تو امی نے پوچھا ناشتے میں کیا بناؤں۔&lt;br /&gt;ابھی میں نے اخبار کا پہلا صفحہ ہی پڑھا تھا کہ باہر ایک بار پھر ہٹو بچو کا شورمچ گیا۔ اب کہ پتہ چلا کہ شیخ صاحب واپس جا رہے ہیں۔ عجیب بات ہے شیخ صاحب نے پچاس ساٹھ آدمیوں سمیت پندرہ منٹ میں ناشتہ کر بھی لیا اور واپس بھی چلے گئے۔ خیر اسی حیرت کے عالم میں ہم نے بھی ناشتہ کیا۔ نہا دھو کے جب فارغ ہوا تو دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر جا کے دیکھا تو سامنے والوں کی بچی ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈونگا پکڑے کھڑی تھی۔ میں نے واپس مڑتے ہوئے آواز لگائی ، لو بھئی آ گیا ناشتہ۔ بھابھی بچی کو لے کر کچن میں چلی گئیں اور اس سے تفتیش کرنے لگیں۔ بچی معصوم تھی۔بےچاری کو کیا پتہ کہ سیاست کس بلا کا نام ہے اور گھر کی باتیں باہر نہیں نکالتے۔ اس نے چٹخارے لے لے کر بتایا کہ نہاری، پائے اور لسی کا ناشتہ بنایا تھا ہم لوگوں نے۔ ہمارے ابو کا کوئی کام پھنسا ہوا ہے تودادا جی نے کہا تھا کہ شیخ صاحب کی دعوت کر لو تو ہم نے کر دی۔&lt;br /&gt;اور میں تب سے سوچ رہاہوں کہ شیخ صاحب جو خود کو پہلے فرزندِ راولپنڈی اور اب فرزندِ پاکستان سمجھتے ہیں، اور خود کو ایک عالمی و بین الاقوامی سیاستدان اور مدبر گردانتے ہیں ،کیا ان کی یہی اوقات رہ گئی ہے کہ چپڑقناتی قسم کے ناجائز کاموں کے لئے ناشتوں کی رشوتوں سے ہی رام ہو جاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم کی طرح جن کو لوگ ہینڈ پمپ لگوانے کی درخواستیں پیش کرتے ہیں، شیخ صاحب کا لیول بھی گراس روٹ لیول پر آ گیا ہے۔ اب شیخ صاحب شاید یہ بات سمجھ میں آ گئی ہو کہ ان کے مرشدِ جنگجو نے ان سمیت آسمانِ سیاست کے نجانے کتنے ستاروں کو گراس روٹ لیول پرپہنچا دیا ہے لیکن یہ بات شاید ابھی بھی سمجھ نہیں آئی کہ گھاس پھونس میں گری ہوئی کوئی سوئی کبھی دوبارہ ملا نہیں کرتی۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/7726280979897714116-3769337859871642678?l=billubilla.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://billubilla.blogspot.com/feeds/3769337859871642678/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/2009/07/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default/3769337859871642678'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default/3769337859871642678'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/2009/07/blog-post.html' title='ناشتہ، رشوت اور اوقات'/><author><name>بلو بلا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07423259212786086642</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://4.bp.blogspot.com/_DllTBzdZmGg/SkN10PXqsLI/AAAAAAAAAAM/JPz48P6xtAQ/S220/3c5ba8ce012f2374c8a0c5e63586fed4.png'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-7726280979897714116.post-6881271281562616525</id><published>2009-06-25T06:42:00.000-07:00</published><updated>2009-06-25T06:43:55.132-07:00</updated><title type='text'>ہم کون ہیں ؟ ہم کیا ہیں؟</title><content type='html'>&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;کل دوستوں کے ساتھ باتیں ہورہی تھیں۔مختلف موضوعات سے ہوتے ہوتے ہم مذہب اور طالبان کی طرف آ نکلے۔ کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ۔ میں بعد میں دیر تک سوچتا رہا کہ آخر ہم لوگ بحیثیت قوم کتنے گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ آیا اب ہم ایک قوم رہ بھی گئے ہیں یا نہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اگر مسلم اُمہ کی بات کی جائے تو وہ تو پہلے ہی مغرب کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں ملکوں ملکوں میں بٹ کر وطن پرستی میں مبتلا ہو چکی ہے۔ اب کسی مسلمان ملک کے عوام کسی دوسرے مسلمان ملک کے عوام کو اپنا دینی بھائی نہیں سمجھتے۔ بلکہ عملی طور پر تو مشاہدہ یہ ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں کو تو مسلمان ملکوں میں پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے لیکن کسی مسلمان غیر ملکی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt; بات یہیں تک محدود ہوتی تو بھی بہتری کی اُمید رکھی جا سکتی تھی۔ وطنیت پرستی کو فروغ دیتے دیتے بہت سے دوسرے معاملات نظر انداز ہوتے چلے گئے۔ پہلے آہستہ آہستہ لسانی، علاقائی، مذہبی اور قوم پرست طاقتوں کے ننھے ننھے پودے پیدا ہوئے ۔ نشوونما کے لئے آئیڈئیل ماحول اور آب و ہوا وافر مقدار میں دستیاب تھی، چنانچہ آج یہ پودے تناور درختوں کے جنگل بن چکے ہیں۔ ایسے جنگل جن پر کئی خونخوار درندوں کی زندگی کا انحصار ہے۔ ان جنگلوں میں بسنے والے لاکھوں معصوم چرندے ان چند خونخوار درندوں کی نہ ختم ہونے والی بھوک کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;اپنے آس پاس دیکھتا ہوں تو اتنا کچھ نظر آتا ہے کہ لکھنے بیٹھوں تو صفحے کے صفحے کالے ہو جائیں لیکن یہ سوچ ذہن میں آنے لگتی ہے کہ ان مسائل پر تو ہر کوئی لکھ رہا ہے۔ پھر میں کیوں سر کھپاؤں۔ لیکن &lt;a href="http://billubilla.com/?p=422"&gt;پرائیویٹ دوست&lt;/a&gt; کا کہنا ہے کہ لکھ ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا فرض ہے۔بات تو صحیح کہتا ہے اور انصاف پر مبنی بات مجھ سے رد نہیں کی جاتی۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;تازہ موضوع تو مذہبی معاملات پر ہی مشتمل ہے۔ ہمیں فرقوں کے نام پر مختلف مذاہب میں بکھیر دیا گیا ہے۔ اول غلطی تو انسان کی اپنی ہی ہوتی ہے کہ وہ عقل اور سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود صحیح اور غلط میں سے غلط کا انتخاب کرتا ہے۔ کاش کہ تعلیم عام ہو سکے۔پاکستان میں اگر تعلیم عام ہو جائے تو یہاں پر موجود دو بڑے مذہبی گروہوں‌میں پائی جانے والی شدت کم ہو سکتی ہے۔ میری مراد دیوبندی اور بریلوی مکاتبِ فکر سے ہے۔ بریلوی حضرات نے بدعتوں اور شرک پر مشتمل رسوم و رواج کو مذہب کا درجہ دے رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ مذہب کی خاطر تو جان دینے کووہ بھی شہادت سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب دیوبندی حضرات اپنے طرز ِ عمل سے انقلاب لانے کی بجائے طالبانی رویہ اختیار کرنے کو ہی عین اسلام سمجھتے ہیں اور جدید دور کے تقاضوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس تمام صورتحال میں پستا ہے تو وہ بے چارا عام مسلمان جو اپنی زندگی کو اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا چاہتا ہے لیکن اپنے ارد گرد پھیلی مذہبی اکثریت کے زیر ِ اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;ہمارے معاشرے کو چند پریشر گروپوں نے یرغما ل بنا رکھا ہے۔ سرحد میں تو یہ گروپ طالبان کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔ کچھ خوش فہم لوگ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کو خطرہ صرف طالبان سے ہے۔ حالانکہ اُن کے آس پاس ایسے لوگ موجود ہیں جو مذہب کو اپنے ذاتی یا گروہی مفاد کے لئے استعمال کرنے میں طاق ہیں۔ اگر انہیں اقتدار مل رہا ہو تو انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ مذہب کا حلیہ کس حد تک بگڑ رہا ہے۔ انہیں تو بس اپنی اقتدار کی بھوک مٹانی ہے چاہے جیسے بھی مٹے ۔ لیکن وہ مٹتی ہی نہیں ہے۔ یہاں دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ ایک تحریری اور ایک تصویری۔ دونوں مثالوں میں ذکر ہے دو ایسے لوگوں کا جو اپنے اپنے حلقہ اقتدار و اثر میں خدا بنے بیٹھے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;مثال نمبر 1&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;میرے خاندان میں ایک بزرگ ہیں۔ میں نے لفظ بزرگ اُن کی عمر کی وجہ سے بیان کیا ہے یہ نہ سمجھ بیٹھئے گا کہ وہ بزرگی کے کسی اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہیں۔ بہرحال بزرگ صاحب ضیاء دور سے کونسلر چلے آ رہے ہیں۔ اورانہیں اپنے اہل محلہ پر مکمل اختیار و اقتدار حاصل ہے۔اپنے اثر و رسوخ کو مضبوطی و دوام بخشنے کے لئے ایک طاقتور پیر خانوادے کے مرید ِ خاص بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک نامی گرامی حاجی بھی ہیں۔ میرا خیال ہے تمہید اتنی ہی کافی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ دو تین سال پہلے ہمارے خاندان میں ایک فوتگی ہو گئی۔ میت کی تدفین کے موقع پر جب سب لوگ قبرستان میں آس پاس اپنے دوسرے رشتہ داروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کر رہے تھے تو حاجی صاحب کی نظر قریب ہی واقع ایک قبر پر پڑی جس پر ایک کچی سی جھگی بنا دی گئی تھی اور کچھ ٹوٹے پھوٹے برتن اور چٹائیاں وغیرہ پڑی تھیں۔ حاجی صاحب کو اچانک جلال آ گیا۔انہوں نے فوراً اپنے حواریوں کو جھگی اکھاڑنے کا حکم دیا جنہوں نے حکم کی تعمیل کرنے میں کچھ دیر نہ لگائی۔یہ کارروائی کر کے وہ سب دوبارہ فاتحہ خوانی اور تدفین میں مصروف ہو گئے کہ اچانک ساتھ والی گلی سے چالیس پچاس لوگوں کا ایک گروپ نمودار ہوا جن کے ہاتھوں میں پتھر اور اینٹیں تھیں۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ جنازے کے شرکاء نے قبروں کے کتبوں کے پیچھے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں۔ کچھ دیر بعد ان کی سمجھ میں آیا کہ ہوا کیا ہے۔ اب کے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جنازے کے شرکاء نے پتھراؤ شروع کر دیا ۔ تعداد میں زیادہ ہونے کی وجہ سے جنازے والے جلد ہی قبرستان ِ جنگ پر غالب آ گئے۔غرض بات بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی۔ بعد میں معلوم ہونے والی تفصیلات سے پتہ چلا کہ ایک قبضہ گروپ نے ایک گڑھے میں موجود ایک گمنام قبر کو کسی بزرگ کی قبر قرار دے کر اس پر مزار بنانے کی تیاریاں ہی ابھی شروع کیں تھیں کہ یہ فوتگی ہو گئی اور جنازے کے موقع پر حاجی صاحب نے اپنی دھاک بٹھا دی۔ لیکن دوسرے گروپ نے بھی ہار نہ ماننے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اس نے علاقے کے ایم پی اے اور حاجی صاحب کے پیروں تک رسائی حاصل کر لی۔ پھر مذاکرات کا ایک دور چلا۔ کچھ لو اور کچھ دو کے عالمی و ازلی اصول کے تحت حاجی صاحب کو اس مزار کا سرپرست بنا دیا گیا۔ سرپرست بننے کی دیر تھی۔ اب جھگی دوبارہ آباد ہے اور وہی حاجی صاحب جو کل جھگی والوں کو شرابی، نشئی، چرسی اور کافر قرار دے رہے تھے آج ان کے جلو میں بیٹھ کر نامعلوم مجذوب بزرگ کے مزار پر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;یہ مثال ہمارے معاشرے میں سیاستدانوں سے لے کر مذہبی رہنماؤں سب پر صادق آتی ہے۔ رہ گئی دوسری مثال یعنی تصویری مثال تو وہ اگلی پوسٹ میں۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size:100%;"&gt;فقط بلا۔&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/7726280979897714116-6881271281562616525?l=billubilla.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://billubilla.blogspot.com/feeds/6881271281562616525/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/2009/06/blog-post_25.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default/6881271281562616525'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default/6881271281562616525'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/2009/06/blog-post_25.html' title='ہم کون ہیں ؟ ہم کیا ہیں؟'/><author><name>بلو بلا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07423259212786086642</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://4.bp.blogspot.com/_DllTBzdZmGg/SkN10PXqsLI/AAAAAAAAAAM/JPz48P6xtAQ/S220/3c5ba8ce012f2374c8a0c5e63586fed4.png'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-7726280979897714116.post-10530235363172732</id><published>2009-06-25T06:08:00.000-07:00</published><updated>2009-06-25T06:44:56.173-07:00</updated><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Billu'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Army'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Naseebo'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Jang'/><category scheme='http://www.blogger.com/atom/ns#' term='Nargis'/><title type='text'>بلو کی بک بک</title><content type='html'>&lt;p style="text-align: right;"&gt;کچھ دن پہلےمیڈم نورجہاں کا ایک مشہور ملی نغمہ چل رہا تھا &lt;a href="http://billubilla.com/?p=457"&gt;ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدےکی لبھدی پھریں بزار کُڑے‌&lt;/a&gt; تو اچانک ایک لڑکے نے سوال کیا جسے میں جوں کا توں لکھ رہا ہوں،  تو سوال یہ تھا&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="color: rgb(128, 0, 0);"&gt;اگر پھر جنگ ہوگئی تو نور جہاں‌ کہاں سے آئے گی؟؟ کیا نصیبو لال گائے گی؟؟؟؟&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; &lt;/div&gt;یہ سن کر ہم سب بہت ہنسے پھر سوچا کہ ہم لوگ بس صرف ہنسنے گانے کے بارے میں‌ہی سوچتے ہیں‌ اگر واقعی جنگ ہو گئی تو کیا ہم یہ سوچیں‌گے کہ اب گانا کون گائے گا اس کی فکر شائد کسی کو نہیں‌ہوگی کہ لڑے گا کون ؟؟؟&lt;br /&gt;&lt;p style="text-align: right;"&gt; نصیبو لال اگر گانے کے لئے راضی ہو بھی گئی تو صرف اس کے گانے سے کیا ہوگا ساتھ میں‌حاجن نرگس کا ایک عدد پھڑکتا ہوا مجرا بھی تو ہونا چاہیے نا۔&lt;br /&gt;خیر یہ تو بعد کی بات ہے میں‌تو یہ سوچ رہا ہوں‌کہ کیا اس وقت بھی نور جہاں‌ کے گانے کی وجہ سے ہی جنگ جیتی گئی تھی ایسے ہی غیرت نہیں‌ آئی تھی کیا کسی کو، بچپن سے ہم نے تو یہی سنا کہ میڈم نے بہت ہمت بڑھائی تھی فوج کی۔ اور ٹی وی کے اکثر پروگراموں میں بھی یہی دیکھا کہ جی اس وقت کے مجاہد مختلف پلیٹ‌فارموں‌پر میڈم کے گانے کا ذکر لازمی کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی چند ایک کارنامے بھی بیان کر دیتے تھے۔&lt;br /&gt;آجکل کے حالات سے تو لگتا ہے کہ اگر جنگ ہوگئی تو سب لوگ نور جہاں‌ڈھونڈتے پھریں گے پر اب نور جہاں کو پسند کرنے والے بھی تو نہیں‌رہے پھر کیا ہوگا کون گائے گا شائد انڈیا سے کسی کو بلایا جائے گا گوانے کے لئے کیونکہ ہمارے پاس تو ٹیلنٹ‌رہا ہی نہیں ، وہاں‌سے ہمارے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے وہ بھی بے عزت کر کے اور ہم ہیں‌کہ ان کے لوگوں کو سر سے اتارنا ہی نہیں‌چاہتے ، ویسے میں نے‌ ایویں‌ہی ان کو ہمارے لوگ کہہ دیا جو وہاں سے بے عزت ہو کر نکالے جانے کہ با وجود بھی انڈیا کی تعریفیں‌کرتے تھکتے نہیں ، چلو یہ تو ان کا اپنا مسئلہ ہے ۔&lt;br /&gt;ویسے میں‌اتنی لمبی پوسٹ لکھنے کے بعد اب یہ سوچ رہا ہوں‌کہ آخر میں‌ کہنا کیا چاہتا تھا اور اس پوسٹ‌کا مقصد ہے کیا؟؟؟ شائد بات سے بات نکلتی چلی گئی اور میں‌ بھڑاس نکالتا گیا اور پوسٹ‌لکھنے کا مقصدکیا تھا میں‌خود ہی بھول گیا ۔ یہی تو ہم لوگوں‌کی خاص بات ہے کہ جو ہم کہنا چاہتے ہیں‌صرف وہ ہی نہیں‌کہہ پاتے باقی سب کچھ کہہ دیتے ہیں ۔ پر آپ لوگ جو بھی کہنا چاہیں‌وہ ہی کہیے گا میری طرح‌نہیں‌کہ کہنا کچھ تھا اور کہہ کچھ گیا۔ یا پھر کچھ بھی نا کہا اور کہہ بھی گیا اور خود کو پتہ بھی نہیں چلا۔ اب آپ ہی بتائیں‌کہ میں نے کیا کہا۔&lt;br /&gt;شائد اس سے زیادہ بک بک میں‌نے پہلے کبھی نہیں‌کی۔ &lt;/p&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/7726280979897714116-10530235363172732?l=billubilla.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://billubilla.blogspot.com/feeds/10530235363172732/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/2009/06/blog-post.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default/10530235363172732'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/7726280979897714116/posts/default/10530235363172732'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://billubilla.blogspot.com/2009/06/blog-post.html' title='بلو کی بک بک'/><author><name>بلو بلا</name><uri>http://www.blogger.com/profile/07423259212786086642</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='32' height='32' src='http://4.bp.blogspot.com/_DllTBzdZmGg/SkN10PXqsLI/AAAAAAAAAAM/JPz48P6xtAQ/S220/3c5ba8ce012f2374c8a0c5e63586fed4.png'/></author><thr:total>1</thr:total></entry></feed>
